Friday, 9 July 2021

بیڑی نہیں پیروں میں کلائی میں کڑا ہے

 بیڑی نہیں پیروں میں کلائی میں کڑا ہے

قیدی یہ تِرے عشق میں مسرور بڑا ہے

ہے جس کی سخاوت کا بڑا چرچا جہاں میں

کاسہ لیے ہاتھوں میں تِرے در پہ کھڑا ہے

مجھ پر بھی کوئی رنگ چڑھائے تو میں جانوں

اجمیر🕌 کے والی کا سُنا شُہرہ بڑا ہے

اب تجھ پہ ہے، دُھتکار دے یا چشمِ کرم کر

چوکھٹ پہ تِری کوئی زمانے سے پڑا ہے


جینا قریشی

No comments:

Post a Comment