Tuesday, 8 March 2022

عشق سے اس قدر آشنا کون ہے

 عشق سے اس قدر آشنا کون ہے

ایک میں ہوں مگر دوسرا کون ہے

سوچتے ہیں سبھی آج خود کے لیے

اب کسی کے لیے سوچتا کون ہے

سچ کی راحت کو سب مانتے ہیں مگر

سچ بتاؤ کہ سچ بولتا کون ہے؟

دل پہ رکھو ذرا ہاتھ، پھر یہ کہو

تم کو میری طرح دیکھتا کون ہے

جس کو دعویٰ تھا وہ تو گیا چھوڑ کر

میرے بارے میں اب سوچتا کون ہے

سر اٹھا کر میں بولوں گا، دیکھوں گا پھر

بولنے سے مجھے روکتا کون ہے

ڈھونڈتا پھر رہا ہوں ابھی تک اسے

مجھ کو میرے سوا جانتا کون ہے

کچھ نہ کچھ اس کا ہوتا ہے سب پر اثر

غم کی آندھی سے آخر بچا کون ہے

خود کو دیکھا کئے تم ہمیشہ عظیم

یہ بھی دیکھو پسِ آئینہ کون ہے


عظیم انصاری

No comments:

Post a Comment