عشق سے اس قدر آشنا کون ہے
ایک میں ہوں مگر دوسرا کون ہے
سوچتے ہیں سبھی آج خود کے لیے
اب کسی کے لیے سوچتا کون ہے
سچ کی راحت کو سب مانتے ہیں مگر
سچ بتاؤ کہ سچ بولتا کون ہے؟
دل پہ رکھو ذرا ہاتھ، پھر یہ کہو
تم کو میری طرح دیکھتا کون ہے
جس کو دعویٰ تھا وہ تو گیا چھوڑ کر
میرے بارے میں اب سوچتا کون ہے
سر اٹھا کر میں بولوں گا، دیکھوں گا پھر
بولنے سے مجھے روکتا کون ہے
ڈھونڈتا پھر رہا ہوں ابھی تک اسے
مجھ کو میرے سوا جانتا کون ہے
کچھ نہ کچھ اس کا ہوتا ہے سب پر اثر
غم کی آندھی سے آخر بچا کون ہے
خود کو دیکھا کئے تم ہمیشہ عظیم
یہ بھی دیکھو پسِ آئینہ کون ہے
عظیم انصاری
No comments:
Post a Comment