تخیلات کی اونچی اڑان سے پہلے
تھکن کا خوف نکالیں گے دھیان سے پہلے
اسی لیے ہی تو روزی کشادہ تھی ان کی
پرندے جاگ گئے تھے اذان سے پہلے
کسی کے گھر میں اگر آگ تم لگاؤ گے
دھواں اٹھے گا تمہارے مکان سے پہلے
تمام عمر مجھی سے وہ بد گمان رہا
یقین جس کا کیا تھا گمان سے پہلے
اسی نے تجھ کو عطا کی ہے تاب گویائی
خدا کا شکر ادا کر زبان سے پہلے
نشانہ ٹھیک سے کیسے لگاؤ گے مجھ پر
نکالو خوف کی لرزش کمان سے پہلے
صدیق اکبر
No comments:
Post a Comment