کچھ کھڑے ہیں تماش بینوں میں
کچھ ہیں آباد آستینوں میں
تیرے قدموں سے جو ابھرتی ہے
منتظر ہے وہ چاپ زینوں میں
مرحلہ ہجر کا جب آئے گا
دن بدل جائیں گے مہینوں میں
ہو کھنڈر، چاہے دل کہ ویرانہ
مشترک ہیں صفات تینوں میں
ایک دھڑکا لگا سا رہتا ہے
جانے کیسا ہے خوف سینوں میں
شہروز خاور
No comments:
Post a Comment