یاد کی لائبریری
میں کبھی کبھی لائبریری جاتا ہوں
مجھے ان طاقوں کی ہُوک سنائی دیتی ہے
جو گَرد سے اٹے
جالوں کے ہجوم میں گھرے
تمہاری آمد کو ترستے ہیں
ریک میں رکھی کتابیں جدائی کی باس مارتی ہیں
تمہارا دیا ہوا لیمپ اب روشنی نہیں بکھیرتا
یا ہجر نے میری آنکھیں بے نور کر دیں
وہ کرسی جس پہ تم بیٹھتی تھی
اسے دیمک کھا گئی ہے
کبھی جو ہو سکے تو آنا
کوڑے دان نئے خطوط سے بھرا پڑا ہے
تمہاری تصویر یہاں سے ہٹا دی گئی ہے
میں اب بہت تھک چکا ہوں
میری آخری خواہش ہے کہ
مجھے اس لائبریری میں دفن کیا جائے
جہاں صرف تمہاری موجودگی کی یاد ہو
علی زیوف
No comments:
Post a Comment