دلکش مرحوم کی یاد میں
افسردہ، افسردہ، بیٹھے ہو تم
اب دلکش کا نوحہ کہتے ہو تم
سوکھی آنکھوں سے دھوکا دیتے ہو
من کے ساگر میں بھی بہتے ہو تم
سن کر مرنے کی خبریں اب یارو
کیسے کیسے دُکھڑے سہتے ہو تم
تیری خوشبو لوگوں نے پائی ہے
مرگِ ساجن پر یوں مہکے ہو تم
شاعر بستی ویراں سی لگتی ہے
اس کی سنگت میں گر چہکے ہو تم
غزلیں تو سنتے ہو ہر شاعر کی
دلکش کے مصروں کو سہکے ہو تم
امبر تصویروں میں وہ دیکھا ہے
جس کی یادوں میں گم رہتے ہو تم
شہباز امبر رانجھا
No comments:
Post a Comment