Sunday, 13 February 2022

اشک دامن میں گرا ہو جیسے

 اشک دامن میں گِرا ہو جیسے

اک نیا زخم لگا ہو جیسے

پھر کوئی ٹِیس اٹھی ہے دل میں

پھر کوئی پھول کِھلا ہو جیسے

خواب ٹُوٹا تو شور اتنا تھا

آئینہ ٹُوٹ گیا ہو جیسے

کچھ دنوں سے سکون ہے ایسے

دردِ الفت میں مزا ہو جیسے

دیکھنا بے رُخی سے یوں مجھ کو

اب تلک مجھ سے خفا ہو جیسے

جب بھی مِلتا تھا ایسے مِلتا تھا

آخری بار مِلا ہو جیسے

کوئی جھونکا سا چُھو کے گُزرا ہے

تِرے دامن کی ہوا ہو جیسے

ہائے غمگینئ صبحِ گلشن

پُھول خُوشبُو سے خفا ہو جیسے

پِچھلی راتوں سے ترے ہجر کا دُکھ

میری پلکوں پہ ٹکا ہو جیسے

آئینہ دیکھ لوں تو لگتا ہے

رنگ چہرے کا اُڑا ہو جیسے

کتنی خاموشیاں ہیں سینے میں

دِل سے دھڑکن بھی جُدا ہو جیسے

پاؤں لگتے نہیں زمین سے یوں

کوئی کانٹا سا چُبھا ہو جیسے

حسرتیں چِیختی ہیں یوں دل میں

کہیں ماتم کی صدا ہو جیسے

مِری ناکامیوں سے لگتا ہے

مِرا انجام بُرا ہو جیسے

اس طرح میں نے کاٹ لی شاہد

زِیست کانٹوں کی رِدا ہو جیسے


شاہد مرزا 

No comments:

Post a Comment