بس اب تو مِری حسرتِ بے جان کا خوں دیکھ
روتی ہوئی خواہش مِرے اشکوں کے دروں دیکھ
میں تجھ کو وہاں ماروں جہاں پانی ہو نایاب
میرے تو اصولوں میں ہے بدلے کا جنوں دیکھ
خاموشی پلائی مجھے بہرے نے ہنر سے
اب ذات کی کشتی میں ہے طوفانِ سکوں دیکھ
دیوار محبت میں تو نفرت کی نمی تھی
کہتا ہے وہ مضبوط جڑوں کے لیے، یوں دیکھ
واری ہیں سبھی رنگ بنفشی و گلابی
سر سبز چمن زار میں رنگوں کا فسوں دیکھ
سنبل چودھری
No comments:
Post a Comment