Sunday, 13 February 2022

ہر خوشی تیرے نام کی میں نے

ہر خُوشی تیرے نام کی میں نے

وار دی تجھ پہ زندگی میں نے

اک پیادے نے مات شاہ کو دی

چال ایسی بھی اک چلی میں نے

وقت بھی مُختصر تھا اس کے پاس

بات بھی مُختصر سی کی میں نے

جو خلوص و وفا کے پیکر ہیں

کم ہی دیکھے ہیں آدمی میں نے

آنکھ نے جب کبھی بغاوت کی

تیری تصویر دیکھ لی میں نے

کاش پُوچھے کبھی مجھے آ کر

چھوڑ دی کیوں تِری گلی میں نے

صبح ضو روز پُوچھتی ہے مجھے

کس طرح شب گُزار دی میں نے

مجھ کو ثروت کی یاد آئی ہے

ریل دیکھی ہے جب کبھی میں نے

اب مِری لاش سے سوال کرو

کس طرح کی ہے خُودکشی میں نے

میری چوکھٹ پہ غم چلا آیا

سونپ دی اس کو ہر خُوشی میں نے

وصل کو خُود پہ اوڑھ کے انصر

ہجر کی داستاں لِکھی میں نے


راشد قیوم انصر

No comments:

Post a Comment