Sunday, 13 February 2022

یادوں کے ساتھ سینے میں پالی گئی ہے آگ

یادوں کے ساتھ سینے میں پالی گئی ہے آگ

ہم جانتے ہیں کیسے سنبھالی گئی ہے آگ

رُخصت کِیا اُسے بڑی دریا دلی کے ساتھ

جاتے ہی اس کے خُود کو لگا لی گئی ہے آگ

دل کی طرح چراغ بھی بُجھنے نہیں دیا

سُورج کے ڈُوبتے ہی جلا لی گئی ہے آگ

لوگوں نے پُھونک ڈالے شجر سارے شہر کے

اب کے گھروں کی سمت اُچھالی گئی ہے آگ

اس نے ضمیر بیچ کے دولت سمیٹ لی

اُجرت میں عُمر بھر کی کما لی گئی ہے آگ

وہ خوف ہے کہ خُود کو بچانے کے واسطے

اپنے ہی اِرد گِرد جلا لی گئی ہے آگ


راشد قیوم انصر

No comments:

Post a Comment