یادوں کے ساتھ سینے میں پالی گئی ہے آگ
ہم جانتے ہیں کیسے سنبھالی گئی ہے آگ
رُخصت کِیا اُسے بڑی دریا دلی کے ساتھ
جاتے ہی اس کے خُود کو لگا لی گئی ہے آگ
دل کی طرح چراغ بھی بُجھنے نہیں دیا
سُورج کے ڈُوبتے ہی جلا لی گئی ہے آگ
لوگوں نے پُھونک ڈالے شجر سارے شہر کے
اب کے گھروں کی سمت اُچھالی گئی ہے آگ
اس نے ضمیر بیچ کے دولت سمیٹ لی
اُجرت میں عُمر بھر کی کما لی گئی ہے آگ
وہ خوف ہے کہ خُود کو بچانے کے واسطے
اپنے ہی اِرد گِرد جلا لی گئی ہے آگ
راشد قیوم انصر
No comments:
Post a Comment