Monday, 14 February 2022

مذاکرات شطرنج کی طرح ہیں

 شطرنج


موت کے سائے میں پلتے ہم

علی زیوف

زندگی ہم تجھے بچانے کے لئے 

انجان راہ پر محو سفر ہیں

تیری رنگینیاں تیری جاودانیاں 

یہ الہڑ شباب کہیں

بینائی کی کرنوں سے اوجھل نہ ہو جائیں

ہم ہاتھوں کے ماس کو جکڑتی جُھریوں سے شرمسار ہیں

بکھرے رنگوں کو موت کا خاکہ آخر کار چن لے گا 

قلم و کاغذ کے مابین مذاکرات شطرنج کی طرح ہیں 


علی زیوف

No comments:

Post a Comment