شطرنج
موت کے سائے میں پلتے ہم
علی زیوف
زندگی ہم تجھے بچانے کے لئے
انجان راہ پر محو سفر ہیں
تیری رنگینیاں تیری جاودانیاں
یہ الہڑ شباب کہیں
بینائی کی کرنوں سے اوجھل نہ ہو جائیں
ہم ہاتھوں کے ماس کو جکڑتی جُھریوں سے شرمسار ہیں
بکھرے رنگوں کو موت کا خاکہ آخر کار چن لے گا
قلم و کاغذ کے مابین مذاکرات شطرنج کی طرح ہیں
علی زیوف
No comments:
Post a Comment