Monday, 14 February 2022

محبت میں دھوکے سے مارا گیا ہے

 محبت میں دھوکے سے مارا گیا ہے

مجھے آسماں سے اتارا گیا ہے 

میں شہباز ہوں عشق کی وادیوں کا 

جہاں میرے آگے پسارا گیا ہے 

خدا کی قسم کچھ بچا ہی نہیں ہے 

کسے کس طرح جانے ہارا گیا ہے 

ضروری نہیں ہے مِرا ڈوب جانا 

ابھی ہاتھ سے بس کنارا گیا ہے 

گناہوں کا انبار تھا میرے سر پہ 

جہنم سے مجھ کو گزارا گیا ہے 

دعاؤں میں اب بھی اسے مانگتا ہوں 

کہاں دل سے رامز خسارا گیا ہے 


رامز ہاشمی

عبدالسلام 

No comments:

Post a Comment