Monday, 14 February 2022

بے گانوں کی اس بستی میں یاروں جیسے ہم

 بے گانوں کی اس بستی میں یاروں جیسے ہم

صحراؤں کے سینوں پر گلزاروں جیسے ہم

روز اک ٹکڑا لے جاتی ہے آندھی اپنے ساتھ

گرتی پڑتی مٹی کی دیواروں جیسے ہم

وحشت کے ماحول میں اپنا انت کسے معلوم

بے انجام کہانی کے کرداروں جیسے ہم

ہر منظر سے جھانک رہا ہے بھوک کا گہرا عکس

خالی پیٹ مصور کے شہ پاروں جیسے ہم

دامن میں ہے آنسو روتی خبروں کا انبار

خون اگلتے بوسیدہ اخباروں جیسے ہم

اندر کا یہ بوجھل پن آوارہ رکھتا ہے

ورنہ کب تھے گلیوں میں بے کاروں جیسے ہم

ثاقب! کون ہمارے فن کا دام لگائے گا

چھوٹے شہروں کے سستے بازاروں جیسے ہم


عباس ثاقب

No comments:

Post a Comment