بے گانوں کی اس بستی میں یاروں جیسے ہم
صحراؤں کے سینوں پر گلزاروں جیسے ہم
روز اک ٹکڑا لے جاتی ہے آندھی اپنے ساتھ
گرتی پڑتی مٹی کی دیواروں جیسے ہم
وحشت کے ماحول میں اپنا انت کسے معلوم
بے انجام کہانی کے کرداروں جیسے ہم
ہر منظر سے جھانک رہا ہے بھوک کا گہرا عکس
خالی پیٹ مصور کے شہ پاروں جیسے ہم
دامن میں ہے آنسو روتی خبروں کا انبار
خون اگلتے بوسیدہ اخباروں جیسے ہم
اندر کا یہ بوجھل پن آوارہ رکھتا ہے
ورنہ کب تھے گلیوں میں بے کاروں جیسے ہم
ثاقب! کون ہمارے فن کا دام لگائے گا
چھوٹے شہروں کے سستے بازاروں جیسے ہم
عباس ثاقب
No comments:
Post a Comment