ہم سبھی مسافر ہیں
وقت کے شجر تلے
ہم سبھی مسافر ہیں
زندگی کے سرد و گرم
موسموں کو سہتے ہیں
لمبی اس مسافت میں
پیر تھک بھی جاتے ہیں
ٹھوکریں بھی لگتی ہیں
الجھنیں بھی آتی ہیں
قافلے جو چلتے ہیں
تھک کے رک بھی جاتے ہیں
کچھ سمے ٹہرتے ہیں
وقت کے شجر کے سائے
اور گہرے ہوتے ہیں
جستجو نہیں رکتی
ہمتیں نہیں جھکتیں
منزلیں بھی ملتی ہیں
قافلے جو چلتے ہیں
منزلوں سے پہلے وہ
پھر کبھی نہیں رکتے
حمیرا قریشی
No comments:
Post a Comment