Monday, 14 February 2022

وقت کے شجر تلے ہم سبھی مسافر ہیں

 ہم سبھی مسافر ہیں


وقت کے شجر تلے

ہم سبھی مسافر ہیں

زندگی کے سرد و گرم

موسموں کو سہتے ہیں

لمبی اس مسافت میں

پیر تھک بھی جاتے ہیں

ٹھوکریں بھی لگتی ہیں

الجھنیں بھی آتی ہیں

قافلے جو چلتے ہیں

تھک کے رک بھی جاتے ہیں

کچھ سمے ٹہرتے ہیں

وقت کے شجر کے سائے

اور گہرے ہوتے ہیں

جستجو نہیں رکتی

ہمتیں نہیں جھکتیں

منزلیں بھی ملتی ہیں

قافلے جو چلتے ہیں

منزلوں سے پہلے وہ

پھر کبھی نہیں رکتے


حمیرا قریشی

No comments:

Post a Comment