Monday, 14 February 2022

تشنہ لب کہتے رہے سنتی رہی پیاسی رات

تشنہ لب کہتے رہے سنتی رہی پیاسی رات

صبح تک چلتی رہی درد تہ جام کی بات

یہ ہوس پیشہ، ہوس کار، ہوس خُو دنیا

خوب ہے جس میں بھٹکتی ہے گزرگاہِ نجات

پڑتے ہی دل پہ کسی شوخ نظر کا پرتو

جگمگانے لگی دھڑکن تو سجے محسوسات

جگمگاتی ہے کرن درد کی دھڑکن دھڑکن

آپ کو پیش کروں پیار کی رنگیں سوغات

اک مسیحا کی نشانی ہے یہ ہنستا ہوا زخم

ہم کو درکار نہیں مرہم و درمانِ حیات

وقت ظالم ہے مٹا دیتا ہے شدادوں کو

آپ کا ظلم ہے کیا آپ کی کیا ہے اوقات

جام و آئینہ یہی دل تھا کسی دن جاوید

اس نے توڑا ہے جسے سنگدلی سے ہیہات


جاوید وششٹ

No comments:

Post a Comment