اُس کی حالت میرے چہرے سے عیاں ہونے کا غم
مجھ کو سہنا پڑ رہا ہے رازداں ہونے کا غم
وقت پر رُخصت ہوئے جو لوگ اچھے رہ گئے
مجھ کو کھائے جا رہا ہے، رفتگاں ہونے کا غم
ایک سا سب کو میسر ہونا پڑتا ہے یہاں
آسماں سے پوچھ لو تم آسماں ہونے کا غم
ایک بھی بندہ نہ مجھ سے آج تک قائل ہوا
چُپ کرا دے گا مجھے شعلہ بیاں ہونے کا غم
بے دلی کی انتہا یہ ہے کہ کوئی غم نہیں
رائیگاں ہونے لگا ہے، رائیگاں ہونے کا غم
مبین دھاریجو
No comments:
Post a Comment