زندگی نام ہے کسی دکھ کا
یہ بهی پیغام ہے کسی دُکھ کا
زندگی نام ہے کسی دکھ کا
دکھ ہزاروں اُسے ملیں گے، دوست
جس کی بیٹی کو دکھ کہیں گے، دوست
خواب سارے بُهلا دیے سُکھ کے
ہم خریدار بن گئے دکھ کے
زیست کا راز پا لِیا ہے، جناب
دکھ کو سینے لگا لِیا ہے، جناب
ابنِ آدم پہ اعتبار کیا
بنتِ حوا کو داغدار کیا
جو خوشی روٹیوں سے ملتی ہے
عمر بهر اس کا انتظار کیا
کیا سناؤں کہ کیا کہانی ہے
دکھ میں گزری مِری جوانی ہے
رو رہی ہے گُلاب زادی جو
ابنِ آدم کی مہربانی ہے
ہم نے یہ سوچ کر نہیں کیا، دوست
عشق بهی نام ہے کسی دکھ کا
یہ بهی پیغام ہے کسی دکھ کا
زندگی نام ہے کسی دکھ کا
اسامہ زاہروی
No comments:
Post a Comment