ترے دل میں محبت ہے، عاشقی کر
اگر پانے کی حاجت ہے، عاشقی کر
اگر تم شان سے جینا چاہتے ہو
ابھی من میں رقابت ہے، عاشقی کر
وفا کو زندگی میں بھی اب جگہ دے
وفا میں ہی لطافت ہے، عاشقی کر
سروں میں یار ملتی ہے روشنی بھی
سروں میں بھی ثقافت ہے، عاشقی کر
یہ رب کا حکم گر ہے تو مان اس کو
اسی نے دی سخاوت ہے، عاشقی کر
حسیں دل میں بسانا بھی ہے عبادت
ذرا جو تجھ کو رغبت ہے، عاشقی کر
ابھی کمزور امبر ہے تیرا ایماں
دعا میں بھی نقاہت ہے، عاشقی کر
شہباز امبر رانجھا
No comments:
Post a Comment