رات نکلا ہی تھا مہتاب تو تُو یاد آیا
حد سے جب دل ہوا بیتاب تو تو یاد آیا
سوچتا تھا کہ تجھے دل سے بھلا دوں لیکن
بھولنے کے ہوئے اسباب تو تو یاد آیا
مجھ کو تھا زعم کہ میں اس پار پہنچ جاوں گا
میری کشتی ہوئی غرقاب تو تو یاد آیا
عیش اور کیف کے لمحوں میں بھلایا تھا تجھے
غم کا بڑھنے لگا سیلاب تو تو یاد آیا
شام سے روتے ہوئے شام پڑی آنگن میں
شل ہوئے جب مِرے اعصاب تو تو یاد آیا
ساتھ گزرے ہوئے لمحوں کی قسم اے ہمدم
چھوڑ کر جب گئے احباب تو تو یاد آیا
رت جگے بن گئے ہیں میرا مقدر شاہد
خواب ہونے لگے نایاب تو تو یاد آیا
شاہد مرزا
No comments:
Post a Comment