چاہت کا میرے دوست رہا دور اب نہیں
زندہ ضرور تھی یہ کبھی، اور اب نہیں
سنگین مسئلہ ہے جو حیرت کدے میں ہوں
تیری کسی ادا پہ مِرا غور اب نہیں
آنے لگے ہیں دل میں مِرے وسوسے بہت
وہ مجھ سے روٹھتا بھی کسی طور اب نہیں
کرنے لگا ہے بات کھلےعام مجھ سے وہ
الفت کا اس کے دل میں کوئی چور اب نہیں
ممکن نہیں نشاط! کہ ہم ہوں جدا کبھی
تیرے تو اس وظیفے کا بھی شور اب نہیں
نشاط عبیر
No comments:
Post a Comment