Monday, 14 February 2022

چاہت کا میرے دوست رہا دور اب نہیں

 چاہت کا میرے دوست رہا دور اب نہیں

زندہ ضرور تھی یہ کبھی، اور اب نہیں

سنگین مسئلہ ہے جو حیرت کدے میں ہوں

تیری کسی ادا پہ مِرا غور اب نہیں

آنے لگے ہیں دل میں مِرے وسوسے بہت

وہ مجھ سے روٹھتا بھی کسی طور اب نہیں

کرنے لگا ہے بات کھلےعام مجھ سے وہ

الفت کا اس کے دل میں کوئی چور اب نہیں

ممکن نہیں نشاط! کہ ہم ہوں جدا کبھی

تیرے تو اس وظیفے کا بھی شور اب نہیں


نشاط عبیر

No comments:

Post a Comment