Saturday, 10 July 2021

نہ پوچھو کیسے ہمت کر رہے ہیں

 نہ پوچھو کیسے ہمت کر رہے ہیں

جو ہم پھر سے محبت کر رہے ہیں

نہ جانے کیا چھپانا چاہتے ہیں

جو ہم اتنی وضاحت کر رہے ہیں

یہی بچے امامت بھی کریں گے

جو مسجد میں شرارت کر رہے ہیں

خوشی میں کس طرح نکلیں گے آنسو

ابھی آنسو ریاضت کر رہے ہیں

ہماری تاج پوشی ملتوی ہو

ابھی تو لوگ بیعت کر رہے ہیں

مِرے آنگن میں کچھ بھوکے پرندے

مسلسل میری غیبت کر رہے ہیں

کبھی اجداد نے کی تھی بغاوت

لہٰذا ہم حکومت کر رہے ہیں


سروش آصف

No comments:

Post a Comment