Friday, 9 January 2026

کام رب کا ہے شفا دینا شفا دیتا ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 کچھ نہیں کرتا مسیحا تو دوا دیتا ہے

کام رب کا ہے شفا دینا، شفا دیتا ہے

صبح ہوتے ہیں اجالوں کا پتا دیتا ہے

وہ جو سورج ہے چراغوں کو بجھا دیتا ہے

میرا محبوب مجھے کیسی سزا دیتا ہے

وار کرتا نہیں نظروں سے گرا دیتا ہے

آگ چپکے سے لگاتا ہے اشاروں سے کوئی

آئے الزام تو پھر ہاتھ اٹھا دیتا ہے

ابتداء عشق کی ہوتی ہے کٹھن سے لیکن

درد جب حد سے گزرتا ہے مزا دیتا ہے

پاس آتا ہے سناتا ہے کہانی غم کی

کوئی کاجل مِری آنکھوں سے بہا دیتا ہے

پھینک کر شاخِ ثمردار پہ پتھر مہرو

کوئی معصوم پرندوں کو اڑا دیتا ہے


مہرالنساء مہرو

No comments:

Post a Comment