عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کچھ نہیں کرتا مسیحا تو دوا دیتا ہے
کام رب کا ہے شفا دینا، شفا دیتا ہے
صبح ہوتے ہیں اجالوں کا پتا دیتا ہے
وہ جو سورج ہے چراغوں کو بجھا دیتا ہے
میرا محبوب مجھے کیسی سزا دیتا ہے
وار کرتا نہیں نظروں سے گرا دیتا ہے
آگ چپکے سے لگاتا ہے اشاروں سے کوئی
آئے الزام تو پھر ہاتھ اٹھا دیتا ہے
ابتداء عشق کی ہوتی ہے کٹھن سے لیکن
درد جب حد سے گزرتا ہے مزا دیتا ہے
پاس آتا ہے سناتا ہے کہانی غم کی
کوئی کاجل مِری آنکھوں سے بہا دیتا ہے
پھینک کر شاخِ ثمردار پہ پتھر مہرو
کوئی معصوم پرندوں کو اڑا دیتا ہے
مہرالنساء مہرو
No comments:
Post a Comment