نہ دولت کام آئے گی نہ طاقت کام آئے گی
شرافت ہے کھرا سکہ، شرافت کام آئے گی
نہ دیکھیں ہم بھری آنکھوں سے اپنے ہاتھ کے چھالے
کریں محبت مِرے بھائی! کہ محنت کام آئے گی
رہیں جس حال میں لیکن چلیں ہم راستہ سیدھا
یہی اپنی روش روزِ قیامت کام آئے گی
بڑھیں آگے ستارے، چاند، سورج راہ تکتے ہیں
کسی بھی چیز کو پانے میں محنت کام آئے گی
سہج رکھیں اگر گھر میں پڑی ہیں فالتو چیزیں
ہے ہر شے کام کی وقتِ ضرورت کام آئے گی
کریں گے علم حاصل چاہے ہم کو چین جانا ہو
نبیﷺ فرما گئے بے شک یہ دولت کام آئے گی
جہاں دیدہ بزرگوں سے بصیرت پاؤ حیدر جی
بصیرت جس میں ہو ایسی بصارت کام آئے گی
حیدر بیابانی
No comments:
Post a Comment