Friday, 9 January 2026

مجھے دن رات فکر آشیاں معلوم ہوتی ہے

 مجھے دن رات فکر آشیاں معلوم ہوتی ہے

کہ برگشتہ نگاہ باغباں معلوم ہوتی ہے

جو دل آزاد ہو تو ہر جگہ حاصل ہے آزادی

قفس میں بھی بہار گلستاں معلوم ہوتی ہے

پئے گل گشت شاید آج وہ جان بہار آیا

چمن کی پتی پتی گلستاں معلوم ہوتی ہے

اجڑتی آ رہی ہے مدتوں سے دیکھیے پھر بھی

بہار باغ عالم بے خزاں معلوم ہوتی ہے

تبسم ان کے ہونٹوں پر تڑپ ہے میرے سینے میں

کہاں بجلی چمکتی ہے کہاں معلوم ہوتی ہے

شفق پھولی ہوئی ہے ہر طرف خون شہیداں کی

زمین کوئے قاتل آسماں معلوم ہوتی ہے

کسی کی انجمن میں مجھ پہ یہ پابندیاں اختر

ذرا سی بات پر کٹتی زباں معلوم ہوتی ہے


اختر مادھوپوری

No comments:

Post a Comment