ان کی قبائے زر انہیں کیا کیا بنا گئی
اپنی پھٹی قمیص ہنر کو بھی کھا گئی
اے عمرِ تیز گام! یہ کیا ہو گیا تجھے
تُو بھی خیال و خواب کی باتوں میں آ گئی
راہِ طلب تو پہلے ہی دشوار تھی اور اب
اک آخری امید بھی رستہ دکھا گئی
کانٹوں کی چھیڑ چھاڑ میں خوں کا زیاں ہوا
پھولوں کی دیکھ بھال میں بو ہاتھ آ گئی
راہوں کی اونچ نیچ سے آئی سبک روی
موجوں کی کی ریل پیل کنارے لگا گئی
موضوعِ گفتگو بنی افسر! مِری ہنسی
گُل کی شفگتگی بھی کئی گُل کھلا گئی
سعید افسر
No comments:
Post a Comment