Friday, 9 January 2026

تنہائی کو میلہ کر دو

 تنہائی کو میلہ کر دو

میرا سپنا سچا کر دو

انگلی رکھ دو میرے لب پر

میری بات کو میٹھا کر دو

آنکھ کے منظر میں آ بیٹھو

ہر منظر ہو اُجلا کر دو

اچھی اچھی باتیں کر کے

میرے موڈ کو اچھا کر دو

میرے رنگ میں رنگ جاؤ یا

مجھ کو اپنے جیسا کر دو

میرے جھیل کنارے آ کر

سب لہروں کو یکجا کر دو


نوشابہ حفیظ ہاشمی

No comments:

Post a Comment