تنہائی کو میلہ کر دو
میرا سپنا سچا کر دو
انگلی رکھ دو میرے لب پر
میری بات کو میٹھا کر دو
آنکھ کے منظر میں آ بیٹھو
ہر منظر ہو اُجلا کر دو
اچھی اچھی باتیں کر کے
میرے موڈ کو اچھا کر دو
میرے رنگ میں رنگ جاؤ یا
مجھ کو اپنے جیسا کر دو
میرے جھیل کنارے آ کر
سب لہروں کو یکجا کر دو
نوشابہ حفیظ ہاشمی
No comments:
Post a Comment