عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دیکھ لوں خلد کا منظر وہ سہانا اک بار
کاش ہو جائے مِرا طیبہ میں جانا اک بار
کاش مل جائے نبیﷺ کا وہ زمانہ اک بار
ان کی خوشبو سے مہک جائے گھرانا اک بار
دل تڑپتا ہے مدینے کی زیارت کے لیے
کاش ہو جائے کوئی حج کا بہانہ اک بار
جس جگہ ہوتی ہے ہر وقت کرم کی بارش
میرے مولیٰ مجھے وہ در تو دکھانا اک بار
اے خدا مجھ سے گناہ گار پہ کر اتنا کرم
شہر سرکارﷺ پہنچ جائے دِوانہ اک بار
میں بتاؤں گی تجھے زندگی کہتے ہیں کسے
اے مِری موت! مدینے میں تو آنا اک بار
اتنی توفیق عطا کر دے حبیبہ کو خدا
جا کے طیبہ میں سنائے یہ ترانہ اک بار
حبیبہ اکرام
No comments:
Post a Comment