محبت اب بغاوت چاہتی ہے
زمانے سے اجازت چاہتی ہے
اسی کے پاس پھر ہم لوٹ جائیں
نجانے کیوں یہ قسمت چاہتی ہے
کہیں ہو گا بسیرا اب ہمارا
فسانہ بھول جائے اہلِ دنیا
کہانی اب حقیقت چاہتی ہے
وہ اب تعبیر بن کر لوٹ آئے
مِرے خوابوں کی شدت چاہتی ہے
بھلانا بھی ضروری ہو گیا ہے
مگر ملنے کو طبیعت چاہتی ہے
اسے دینے کو میرے پاس ہے کیا
وہ پاگل دل کی دولت چاہتی ہے
بسنتی موسموں کا کھیل ہے یہ
زمیں دل کی بھی جنت چاہتی ہے
سماجی بات کرتے کرتے رخشاںؔ
تمہیں بھی اب سیاست چاہتی ہے
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment