Thursday, 7 January 2016

جینے کے لئے کوئی ہنر ڈھونڈ رہا ہوں

جینے کے لیے کوئی ہنر ڈھونڈ رہا ہوں
سائے کی تمنا ہے، شجر ڈھونڈ رہا ہوں
جس شہر میں بے موت بھی مر جاتے ہیں انسان
اس شہر میں جینے کا ہنر ڈھونڈ رہا ہوں
میں ٹوٹ کر بکھروں تو کوئی مجھ کو سمیٹے
شیشہ ہوں، کوئی آئینہ گر ڈھونڈ رہا ہوں
ہر سمت لٹیرے ہی یہاں سنگ بدست ہیں
جو سر کو بچائے وہ سِپر ڈھونڈ رہا ہوں
آگ اور دھواں دشمنِ جان چاروں طرف ہے
جاؤں میں کدھر، راہگزر ڈھونڈ رہا ہوں
اس شہر کو سب ہی نے اجاڑا ہے ابھی تک
جو اس کو سجائے وہ بشر ڈھونڈ رہا ہوں
برسوں میں بسایا تھا بہت چاہا سے جس کو
مل جائے وہ جلتا ہوا گھر ڈھونڈ رہا ہوں
اجڑی ہوئی بستی میں خموشی سے کھڑا ہوں
گویا کوئی انسان، بشر ڈھونڈ رہا ہوں
برسوں ہوئے جس شخص کی صورت نہیں دیکھی
پھر آج اسی شخص کا گھر ڈھونڈ رہا ہوں 

اختر سروش

No comments:

Post a Comment