ان کے کوچے میں گھر بنایا ہے
آندھیوں میں دیا جلایا ہے
لگ رہی ہیں حقیقتیں بھی فریب
دل نے اتنا فریب کھایا ہے
سانس بھی لے رہا ہوں آہستہ
اس میں تیرا کوئی کمال نہیں
میں نے تجھ کو صنم بنایا ہے
ان کی پلکیں اٹھیں تو یہ جانا
دل ہمارا نہیں، پرایا ہے
آپ نے بس نگاہ پھیری تھی
لوگ کہتے ہیں دل دکھایا ہے
یہ نہ پوچھو حالِ دل کیا ہے
بس یہ جانو کہ دل لگایا ہے
ہے خرابے کی بات مت پوچھو
وقت نے ہم کو آزمایا ہے
تیری ہمت کی داد ہے اخترؔ
کس خرابے میں مسکرایا ہے
اختر سروش
No comments:
Post a Comment