Thursday, 7 January 2016

ان کے کوچے میں گھر بنایا ہے

ان کے کوچے میں گھر بنایا ہے
آندھیوں میں دیا جلایا ہے
لگ رہی ہیں حقیقتیں بھی فریب
دل نے اتنا فریب کھایا ہے
سانس بھی لے رہا ہوں آہستہ
جب سے شیشے کا گھر بنایا ہے
اس میں تیرا کوئی کمال نہیں
میں نے تجھ کو صنم بنایا ہے
ان کی پلکیں اٹھیں تو یہ جانا
دل ہمارا نہیں، پرایا ہے
آپ نے بس نگاہ پھیری تھی
لوگ کہتے ہیں دل دکھایا ہے
یہ نہ پوچھو حالِ دل کیا ہے
بس یہ جانو کہ دل لگایا ہے
ہے خرابے کی بات مت پوچھو
وقت نے ہم کو آزمایا ہے
تیری ہمت کی داد ہے اخترؔ
کس خرابے میں مسکرایا ہے

اختر سروش

No comments:

Post a Comment