Thursday, 7 January 2016

زندگی کے سراب سے بچنا

زندگی کے سراب سے بچنا
عمر بھر کے عذاب سے بچنا
جس کی انگڑائی ہوش گم کر دے
ایسے کافر شباب سے بچنا
جو خود اپنے ہی گھر کا دشمن ہو
ایسے خانہ خراب سے بچنا
جس کے پہلو میں لاکھ کانٹے ہوں
ایسے رنگیں گلاب سے بچنا
بے سبب دل نہ ٹوٹ جائیں کہیں
دل لگی میں حساب سے بچنا
پڑھتے رہنا کتبِ زیست مگر
بے وفائی کے باب سے بچنا
آگہی خود عذاب ہے، لیکن
بے خودی کی شراب سے بچنا

اختر سروش

No comments:

Post a Comment