زندگی کے سراب سے بچنا
عمر بھر کے عذاب سے بچنا
جس کی انگڑائی ہوش گم کر دے
ایسے کافر شباب سے بچنا
جو خود اپنے ہی گھر کا دشمن ہو
جس کے پہلو میں لاکھ کانٹے ہوں
ایسے رنگیں گلاب سے بچنا
بے سبب دل نہ ٹوٹ جائیں کہیں
دل لگی میں حساب سے بچنا
پڑھتے رہنا کتبِ زیست مگر
بے وفائی کے باب سے بچنا
آگہی خود عذاب ہے، لیکن
بے خودی کی شراب سے بچنا
اختر سروش
No comments:
Post a Comment