میں بھول جاؤں جسے یہ وہ حادثہ بھی نہیں
وہ آج ایسے مِلا جیسے جانتا بھی نہیں
حسِین اس سے جہاں میں کوئی سوا بھی نہیں
یہ اور بات ہے کہ میں اس کو چاہتا بھی نہیں
مِرے خیال کی دہلیز پر وہ آ بیٹھا
زہے نصیب وہ ناراض ہو گئے ہم سے
یہ اور بات ہے کہ اپنی کوئی خطا بھی نہیں
کسے خبر تھی کہ سورج بھی ڈوب جائے گا
اس اک مکان سے جس میں کوئی دِیا بھی نہیں
سجائے رکھتا ہے اشکوں کے دِیپ پلکوں پر
عجیب شخص ہے کچھ منہ سے بولتا بھی نہیں
ہماری سمت سبھی راستے سمٹ آئے
تمہری سمت ابھی یہ قدم اٹھا بھی نہیں
کسی کی رات ہے روشن چراغ کے مانند
کسی مکان میں بجھتا ہوا دِیا بھی نہیں
گناہگار نگاہوں نے یہ بھی دیکھا ہے
گناہگار ہوا جس نے کچھ کیا بھی نہیں
لو ہم نے زیست بھی کر دی اسی کے نام سروشؔ
جو ہم کو پیار سے ایک بار دیکھتا بھی نہیں
اختر سروش
No comments:
Post a Comment