Friday, 8 January 2016

یوں دھڑکنوں کو شمار کرنا کوئی تو سیکھے

یوں دھڑکنوں کو شمار کرنا کوئی تو سیکھے
ہمارا دل بے قرار کرنا کوئی تو سیکھے
خوشی سے غم کا ہے گہرا ناتا، یہی حقیقت
دکھوں پہ بھی اعتبار کرنا کوئی تو سیکھے
وہ سوکھے پھولوں سے بھر کے دامن کو لوٹ آئے
خزاں کا موسم بہار کرنا کوئی تو سیکھے
کوئی تو اس نیلے آسماں کو زمیں پہ لائے
میرے ستارے پہ وار کرنا کوئی تو سیکھے
ہماری کشتی بچائے کوئی کبھی بھنور سے
وہ ٹوٹ کر مجھ سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے
غموں کی چادر بچھا کے رخشاںؔ جیے تو کوئی
اور عمر بھر انتظار کرنا کوئی تو سیکھے

رخشاں ہاشمی

No comments:

Post a Comment