یوں دھڑکنوں کو شمار کرنا کوئی تو سیکھے
ہمارا دل بے قرار کرنا کوئی تو سیکھے
خوشی سے غم کا ہے گہرا ناتا، یہی حقیقت
دکھوں پہ بھی اعتبار کرنا کوئی تو سیکھے
وہ سوکھے پھولوں سے بھر کے دامن کو لوٹ آئے
کوئی تو اس نیلے آسماں کو زمیں پہ لائے
میرے ستارے پہ وار کرنا کوئی تو سیکھے
ہماری کشتی بچائے کوئی کبھی بھنور سے
وہ ٹوٹ کر مجھ سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے
غموں کی چادر بچھا کے رخشاںؔ جیے تو کوئی
اور عمر بھر انتظار کرنا کوئی تو سیکھے
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment