ذرا آسان تم یہ کام کر دو
گرا کر زلف اپنی شام کر دو
مِرا یہ دل تمہارا ہی رہے گا
تم اپنا دل بھی میرے نام کر دو
لہو میرا تمہیں سیراب کر دے
تمہارا کیا ہے موتی تولتے ہو
مِرے آنسو کو بھی نیلام کر دو
کہانی کو ذرا رنگین کر کے
یہ لو شمشیر، قتلِ عام کر دو
دمِ آخر تمہارا نام لوں گے
بھلے رخشاںؔ کو تم بدنام کر دو
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment