رنگ رخسار کا گلابی ہے
یہ محبت کی کامیابی ہے
عشق کیجے، مگر خیال رہے
حسن کے پاس دل کی چابی ہے
کیوں سیاست کی بات کرتے ہیں
اس کی آنکھیں ہی اتنی دلکش ہیں
کون کہتا ہے وہ شرابی ہے
ہم تو رخشاںؔ اسی پہ مرتے ہیں
جس کا چہرہ ذرا کتابی ہے
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment