Friday, 8 January 2016

رنگ رخسار کا گلابی ہے

رنگ رخسار کا گلابی ہے
یہ محبت کی کامیابی ہے
عشق کیجے، مگر خیال رہے
حسن کے پاس دل کی چابی ہے
کیوں سیاست کی بات کرتے ہیں
آپ میں بس یہی خرابی ہے
اس کی آنکھیں ہی اتنی دلکش ہیں
کون کہتا ہے وہ شرابی ہے
ہم تو رخشاںؔ اسی پہ مرتے ہیں
جس کا چہرہ ذرا کتابی ہے

رخشاں ہاشمی

No comments:

Post a Comment