تم میرے ساتھ رہو گے تو اجالا ہو گا
میری آنکھوں میں کوئی جھانکنے والا ہو گا
تیری یادوں کا حسیں جال بنایا ہم نے
جیسے دیوار میں مکڑی کا وہ جالا ہو گا
جان جائے یا رہے، ہم نے قسم کھائی ہے
ہم خوشی ڈھونڈ رہے ہیں یہاں جنگل جنگل
کیا خبر ہے کہ کہاں اپنا شوالا ہو گا
اپنا زخمی ہوا سر دیکھا تو محسوس ہوا
اس نے میرے لیے پتھر ہی اچھالا ہو گا
بِن تِرے ہم سفر ایسے کٹے گا میرا سفر
سانس اکھڑے گی مِری، پاؤں میں چھالا ہو گا
کچھ ملا ہے نہ ملے گا یہ خبر ہے رخشاںؔ
ہے یقیں اس نے سمندر بھی کھنگالا ہو گا
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment