Friday, 8 January 2016

تم میرے ساتھ رہو گے تو اجالا ہو گا

تم میرے ساتھ رہو گے تو اجالا ہو گا
میری آنکھوں میں کوئی جھانکنے والا ہو گا
تیری یادوں کا حسیں جال بنایا ہم نے
جیسے دیوار میں مکڑی کا وہ جالا ہو گا
جان جائے یا رہے، ہم نے قسم کھائی ہے
اشک سے پیاس بجھے، غم کا نوالا ہو گا
ہم خوشی ڈھونڈ رہے ہیں یہاں جنگل جنگل
کیا خبر ہے کہ کہاں اپنا شوالا ہو گا
اپنا زخمی ہوا سر دیکھا تو محسوس ہوا
اس نے میرے لیے پتھر ہی اچھالا ہو گا
بِن تِرے ہم سفر ایسے کٹے گا میرا سفر
سانس اکھڑے گی مِری، پاؤں میں چھالا ہو گا
کچھ ملا ہے نہ ملے گا یہ خبر ہے رخشاںؔ
ہے یقیں اس نے سمندر بھی کھنگالا ہو گا

رخشاں ہاشمی

No comments:

Post a Comment