Friday, 8 January 2016

یوں تو اک عمر ساتھ ساتھ ہوئی

یوں تو اک عمر ساتھ ساتھ ہوئی
جسم کی روح سے نہ بات ہوئی
کیوں خیالوں میں روز آتے ہیں
اک ملاقات جن کے ساتھ ہوئی
کتنا سوچا تھا دل لگائیں گے
سوچتے سوچتے حیات ہوئی
لاکھ تاکید حسن کرتا رہا
عشق سے خاک احتیاط ہوئی
اک فقط وصل کا نہ وقت ہوا
دل ہوا روز روز رات ہوئی
شاید آئی ہے رُت چناؤ کی
کل جو کوچے میں واردات ہوئی
کیا تھی مشکل وصالِ حق میں صداؔ
تجھ سے بس رد نہ تیری ذات ہوئی

صدا انبالوی

No comments:

Post a Comment