Friday, 8 January 2016

زلف لہرا کے فضا پہلے معطر کر دے

زلف لہرا کے فضا پہلے معطر کر دے
جام پھر آنکھوں کے میخانے سے بھر بھر کر دے
بجھ گئی شمع کی لَو تیرے دوپٹے سے تو کیا
اپنی مسکان سے محفل کو منور کر دے
ہوش تو اڑ گئے آنکھوں سے ہی پی کر ساقی
اب ذرا وہ بھی پلا دے جو گلا تر کر دے
غیر کو منہ نہ لگا ہوش میں ہوں جب تک میں
اتنا احسان مِرے ساقیا مجھ پر کر دے
بے مروت ہیں بڑے پی کے بھی ہیں ہوش میں جو
ایسے مے خواروں کو مے خانے سے باہر کر دے
شعر میں ساتھ روانی کے معانی بھی تو بھر
اے صداؔ قید تو کوزے میں سمندر کر دے

صدا انبالوی

No comments:

Post a Comment