اب کہاں دوست ملیں ساتھ نبھانے والے
سب نے سیکھے ہیں اب آداب زمانے والے
دل جلاؤ یا دِیے آنکھوں کے دروازے پر
وقت سے پہلے تو آتے نہیں آنے والے
اشک بن کے میں نگاہوں میں تِری آؤں گا
وقت بدلا تو اٹھاتے ہیں اب انگلی مجھ پر
کل تلک حق میں مِرے ہاتھ اٹھانے والے
وقت ہر زخم کا مرہم تو بن نہیں سکتا
درد کچھ ہوتے ہیں تا عمر رلانے والے
کون کہتا ہے برے کام کا پھل بھی ہے برا
دیکھ مسند پہ ہیں مسجد کو گرانے والے
یہ سیاست ہے کہ لعنت ہے سیاست پہ صداؔ
خود ہیں مجرم بنے قانون بنانے والے
صدا انبالوی
No comments:
Post a Comment