Friday, 8 January 2016

وہ تو خوشبو ہے ہر اک سمت بکھرنا ہے اسے

وہ تو خوشبو ہے ہر اک سمت بکھرنا ہے اسے
دل کو کیوں ضد ہے کہ آغوش میں بھرنا ہے اسے
کیوں سدا پہنے وہ تیرا ہی پسندیدہ لباس
کچھ تو موسم کے مطابق بھی سنورنا ہے اسے
اس کو گلچیں کی نگاہوں سے بچائے مولا
وہ تو غنچہ ہے ابھی اور نکھرنا ہے اسے
ہر طرف چاہنے والوں کی بچھی ہیں پلکیں
دیکھیے کون سے رستے سے گزرنا ہے اسے
دل کو سمجھا لیں ابھی سے تو مناسب ہو گا
اک نہ اک روز تو وعدے سے مکرنا ہے اسے
ہم نے تصویر ہے خوابوں کی مکمل کر لی
ایک رنگِ حنا باقی ہے جو بھرنا ہے اسے
خواب میں بھی کبھی چھونا تو وضو کر کے صداؔ
کبھی میلا، کبھی رسوا نہیں کرنا ہے اسے

صدا انبالوی

No comments:

Post a Comment