Saturday, 9 January 2016

کبھی وہ بدگماں دیکھے گئے ہیں

کبھی وہ بد گماں دیکھے گئے ہیں
کبھی ہم سرگرداں دیکھے گئے ہیں
کبھی اک اشک کو ترسی ہیں آنکھیں
کبھی دریا رواں دیکھے گئے ہیں
کبھی موسم کی بے کیفی کا شکوہ
کبھی خود اک سماں دیکھے گئے ہیں
کبھی ناآشنا ئے لفظ و معنی
کبھی اک داستاں دیکھے گئے ہیں
وہ ذرے جو تِرے قدموں میں آئے
وہ ذرے کہکشاں دیکھے گئے ہیں
جہاں تیرے سوا کچھ بھی نہیں ہے
کبھی ہم بھی وہاں دیکھے گئے ہیں
گل و لالہ مہ و انجم بھی اکثر
ہمارے ہمزباں دیکھے گئے ہیں
بہت ہی مہرباں پایا ہے ان کو
وہ جب نامہرباں دیکھے گئے ہیں
جدھر تم چل دئیے ہو آج اطہرؔ
وہاں دل کے زیاں دیکھے گئے ہیں

اطہر نفیس

No comments:

Post a Comment