لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں
میں اپنے وجود کی سزا ہوں
زخموں کے گلاب کھل رہے ہیں
خوشبو کے ہجوم میں کھڑا ہوا
اس دشتِ طلب میں ایک میں بھی
اس شہرِ طرب کے شور و غل میں
تصویرِ سکوت بن گیا ہوں
بے نام و نمود زندگی کا
اک بوجھ اٹھائے پھر رہا ہوں
شاید نہ ملے مجھے رہائی
یادوں کا اسیر ہو گیا ہوں
ایک ایسا چمن ہے جس کی خوشبو
سانسوں میں بسائے پھر رہا ہوں
ایک ایسی گلی ہے جس کی خاطر
درماندہ کو بہ کو رہا ہوں
اے مجھ کو فریب دینے والے
میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں
میں تیرے قریب آتے آتے
کچھ اور بھی دور ہو گیا ہوں
اطہر نفیس
No comments:
Post a Comment