Saturday, 9 January 2016

لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں

لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں
میں اپنے وجود کی سزا ہوں
زخموں کے گلاب کھل رہے ہیں
خوشبو کے ہجوم میں کھڑا ہوا
اس دشتِ طلب میں ایک میں بھی
صدیوں کی تھکی ہوئی صدا ہوں
اس شہرِ طرب کے شور و غل میں
تصویرِ سکوت بن گیا ہوں
بے نام و نمود زندگی کا
اک بوجھ اٹھائے پھر رہا ہوں
شاید نہ ملے مجھے رہائی
یادوں کا اسیر ہو گیا ہوں
ایک ایسا چمن ہے جس کی خوشبو
سانسوں میں بسائے پھر رہا ہوں
ایک ایسی گلی ہے جس کی خاطر
درماندہ کو بہ کو رہا ہوں
اے مجھ کو فریب دینے والے
میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں
میں تیرے قریب آتے آتے
کچھ اور بھی دور ہو گیا ہوں

اطہر نفیس

No comments:

Post a Comment