سکوتِ شب سے اک نغمہ سنا ہے
وہی کانوں میں اب تک گونجتا ہے
جسے کھو کر بہت مغموم ہوں میں
سنا ہے اس کا غم مجھ سے سوا ہے
کچھ ایسے غم بھی ہیں جن سے ابھی تک
بہت چھوٹے ہیں مجھ سے میرے دشمن
جو میرا دوست ہے مجھ سے بڑا ہے
غنیمت ہے کہ اپنے غمزدوں کو
وہ حسنِ خود نگر پہچانتا ہے
مجھے ہر آن کچھ بننا پڑے گا
مِری ہر سانس میری ابتدا ہے
اطہر نفیس
No comments:
Post a Comment