بے نیازانہ ہر اک راہ سے گزرا بھی کرو
شوقِ نظارہ جو ٹھہرائے تو ٹھہرا بھی کرو
اتنے شائستۂ آدابِ محبت نہ بنو
شکوہ آتا ہے اگر دل میں تو شکوہ بھی کرو
اتنے شائستۂ آدابِ محبت نہ بنو
سینۂ عشق تمناؤں کا مدفن تو نہیں
شوقِ دیدار اگر ہے تو تقاضا بھی کرو
وہ نظر آج بھی کم معنی و بے گانہ نہیں
اس کو سمجھا بھی کرو اس پہ بھروسا بھی کرو
تا بہ کے شکوہ بے مہرئ ساقی اطہر
کبھی خود بڑھ کے کوئی جام اٹھایا بھی کرو
اطہر نفیس
No comments:
Post a Comment