Friday, 10 September 2021

چلو تم بھی مقدر آزما لو

 چلو تم بھی مقدر آزما لو

ہمارے نام کا سکہ اچھالو

گہر کم ہیں خزف ریزے زیادہ

ابھی کچھ اور دریا کو کھنگالو

چلو کرتے ہیں تجدیدِ تعلق

پرانی رنجشوں پر خاک ڈالو

مِرا ماضی مِرے در پر کھڑا ہے

مجھے تم اپنے دامن میں چھپا لو

بہت مشکل گھڑی آئی ہوئی ہے

گھڑی کی سوئی کو آ کر سنبھالو

تمہارے ساتھ جینا چاہتی ہوں

مجھے بے موت مرنے سے بچا لو

بجھا سکتے نہیں ہو آگ جب تم

کم ازکم آگ میں گھی تو نہ ڈالو

تعصب کا دھواں دم گھوٹتا ہے

کہاں مر کھپ گئے روشن خیالو

توجہ چاہیۓ تم کو جو رخشاں

کبھی تم بھی کسی کو گھاس ڈالو


رخشاں ہاشمی

No comments:

Post a Comment