میلہ تھا اور میلے میں بچوں کا رقص تھا
چھوٹی سی خوشیوں، خواہشوں جھولوں کا رقص تھا
یونہی تمہارا نام کسی نے لیا تھا، اور
یونہی کسی کی آنکھ میں اشکوں کا رقص تھا
یونہی تمہاری یاد تھی بارش میں، اور پھر
تم تو نہ تھے، ملال تھا، سوچوں کا رقص تھا
تم کہہ رہے ہو؛ پانی پہ کچھ ان کا حق نہیں
پھر کس لیے فرات کی لہروں کا رقص تھا
حاکم ہمارے شہر کا مہمانِ خاص تھا
میں نے سنا ہے عقل کے اندھوں کا رقص تھا
پیغام دے گئی تھی صبا؛ آ رہا ہے وہ
پھر کیا تھا، سارے شہر کے رستوں کا رقص تھا
اس حال میں ہو کیسے تِری دید ساجنا
تُو سامنے تھا آنسو اور آنکھوں کا رقص تھا
طالب کے گھر میں فاقہ تھا کتنے ہی روز سے
مرشد کی بارگاہ میں پیسوں کا رقص تھا
اس نے تو اک گلاب پہ اپنی نگاہ کی
اور گلستاں میں سارے ہی پھولوں کا رقص تھا
اک پیڑ کاٹنا تھا مگر گھونسلہ بھی تھا
وہ بچ گیا تو سارے پرندوں کا رقص تھا
اکرام دن الست کا تھا، اور پھر وہاں
بلھے سمیت سارے ہی مستوں کا رقص تھا
اکرام افضل
No comments:
Post a Comment