Friday, 10 September 2021

کیا ہو گا جب مر جائیں گے

 کیا ہو گا جب مر جائیں گے

اپنے اپنے گھر جائیں گے

بات کو پوشیدہ رہنے دے

بات کُھلی تو سر جائیں گے

قتل کیۓ دو چار تو سوچا

ہم بھی تجھ سے ڈر جائیں گے

چاہنے والے تیرے اک دن

چوکھٹ پر سر دھر جائیں گے

اس کی جانب جانے والے

لے کر جلتے پر جائیں گے

صدیاں یاد کریں گی ہم کو

کام ایسے کچھ کر جائیں گے

بن جائیں گے یاد کا حصہ

جب ہم تجھ پر مر جائیں گے

جیسی پائی ہم نے تجھ سے

چادر ویسی دھر جائیں گے


حبیب کیفی

No comments:

Post a Comment