بلندی اور نہ پستی چاہتا ہے
ہمارے دل کی بستی چاہتا ہے
انا کی جنگ میں ہارے گا اک دن
وہ پاگل سرپرستی چاہتا ہے
بھلا جذبوں کا کوئی مول ہے کیا
وہ لڑکی عیش و عشرت کی دیوانی
یہ لڑکا گھر گرہستی چاہتا ہے
نہیں ہے شیش محلوں کی تمنا
میرا دل تندرستی چاہتا ہے
نہ ساحل مل سکے گا آج رخشاںؔ
سمندر صرف مستی چاہتا ہے
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment