محبت کو چھپانا آ گیا ہے
خود اپنا دل دکھانا آ گیا ہے
فسانے میں حقیقت جب سے آئی
حقیقت میں فسانہ آ گیا ہے
سیاست میں قدم جیسے بڑھایا
لٹا میرا نشیمن ساتھ دل کے
تمہارا آشیانہ آ گیا ہے
ہماری زندگی دکھ کا سمندر
یہ ہونٹوں پر ترانہ آ گیا ہے
خدا اس کو صدا آباد رکھے
اسے بھی چوٹ کھانا آ گیا ہے
تھپیڑے غم کے سہتے سہتے رخشاںؔ
تمہیں بھی مسکرانا آ گیا ہے
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment