آدمی آدمی سے ڈرتا ہے
دل ہمارا سبھی سے ڈرتا ہے
موت کا خوف اب نہیں کوئی
جب سے دل زندگی سے ڈرتا ہے
اب تو ایسی عجیب حالت ہے
عشق تاجر ہُوا زمانے میں
حسن اب عاشقی سے ڈرتا ہے
غور کرنا ہماری دنیا میں
آج یہ روشنی سے ڈرتا ہے
اس نے ایسی غزل سنا ڈالی
اب یہ دل شاعری سے ڈرتا ہے
جانے کیوں آج کے زمانے میں
جذبۂ دل، خودی سے ڈرتا ہے
کیوں یہ سورج اداس ہے رخشاںؔ
چاند کیوں چاندنی سے ڈرتا ہے
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment