Monday, 11 January 2016

آدمی آدمی سے ڈرتا ہے

آدمی آدمی سے ڈرتا ہے
دل ہمارا سبھی سے ڈرتا ہے
موت کا خوف اب نہیں کوئی
جب سے دل زندگی سے ڈرتا ہے
اب تو ایسی عجیب حالت ہے
غم ہمارا خوشی سے ڈرتا ہے
عشق تاجر ہُوا زمانے میں
حسن اب عاشقی سے ڈرتا ہے
غور کرنا ہماری دنیا میں
آج یہ روشنی سے ڈرتا ہے
اس نے ایسی غزل سنا ڈالی
اب یہ دل شاعری سے ڈرتا ہے
جانے کیوں آج کے زمانے میں
جذبۂ دل، خودی سے ڈرتا ہے
کیوں یہ سورج اداس ہے رخشاںؔ
چاند کیوں چاندنی سے ڈرتا ہے

رخشاں ہاشمی

No comments:

Post a Comment